کاروار: 25؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) آ نے والے مہینوں اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں اترکنڑا ضلع کے ہلیال ، یلاپور، منڈگوڈ، بنواسی کے علاقوں میں جنگلی ہاتھیوں کا جھنڈ کھیتوں میں گھس کر فصلوں کو تباہی و برباد کردیا ہے، جس کو لے کر ابھی سے کسانوں میں خوف ستانےلگا ہے۔ لیکن بنگلورو میں ہورہےرواں ودھان سبھا اجلاس میں اترکنڑا کے کسانوں کو درپیش ایسے سنگین مسئلہ پر ضلع کے کسی بھی عوامی نمائندہ نے آواز نہیں اٹھائی تو سخت افسوس اور بیزارگی کا اظہارکرتے ہوئے اسپیکر کو ہی بات کرنا پڑا۔جن کا تعلق اتر کنڑا کے سرسی ہے۔
کسانوں کے اس مسئلہ کو دیکھتے ہوئے محکمہ فوریسٹ نے حکومت کو پیش کش ارسال کرتےہوئےکہا تھا کہ ہلیال ، یلاپور، منڈگوڈ، بنواسی کے علاقے میں ہاتھیوں کو روکنے کےلئے بڑے بڑے خندق کھودے جائیں۔ لیکن اس تعلق سے ابھی تک حکومت کی طرف سے منصوبےکے لئے کوئی رقم منظورنہیں ہوئی ہے۔ جس کو دیکھتے ہوئے امسال بھی علاقے کے کسانوں کو کوئی راحت ملنے کے امکانات نظر نہیں آرہے تھے، ہاتھیوں کے حملے سے کسانوں کو بچنے کےلئے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
رواں ودھان سبھا اجلاس میں پرانے میسور علاقے میں ہاتھیوں کے حملےسے ہونے والے نقصانات کے متعلق علاقے کے ارکان اسمبلی نے مضبوطی کے ساتھ ا پنی آواز رکھی۔اس کو دیکھ کر ہی سہی ہمارے ضلع کے ارکان اسمبلی اپنے ضلع کو درپیش ہاتھیوں کے مسئلے کو پیش کرسکتے تھے اور فوریسٹ افسران کی طرف سے پیش کردہ منصوبے کے لئے رقم منظور کرنے پر زور دے سکتے تھے۔ لیکن کسی نے بھی لب نہیں کھولا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اجلاس کے ختم ہوتے ہی وزیر امیش کتی نے پرانے میسور علاقے کے ارکان اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کرتےہوئے ہاتھیوں کےحملے کے تعلق سے سوچ بچار کئےجانےکی بات کہی۔ ضلع اتر کنڑا کے ارکان اسمبلی نے اس موضوع کو پیش نہیں کیا تو عین موقع پر اسپیکر ویشویشور ہیگڈے کاگیری نے پوچھا کہ کیا ہاتھیوں کے جھنڈ سے جن علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے، اس لسٹ میں اترکنڑا ضلع شامل نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اتر کنڑا میں بھی ہاتھیوں کےحملے سے کسانوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔
امید کی جارہی ہےکہ اسپیکر کاگیری کی کوششوں سے ضلع میں ہاتھیوں کے حملے سے کسانوں کو کسی حد تک راحت مل سکتی ہے۔